31 مارچ 2014 - 13:21
کشمیر کے تاریخی قصبہ سوپور میں روح پرور اسلامی سمینار کا اہتمام

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے تاریخی قصبہ سوپور کی جامعہ مسجد میں مجلس اتحاد ملت جموں و کشمیر کے زیر اہتمام ‘‘دین سےدوری ۔۔۔۔۔۔اسباب وعلاج ’’کے موضوع پر ایک عظیم الشان سمینار منعقد ہوا ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا خبررساں ادارے‘‘نیوزنور’’ کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کے تاریخی قصبہ سوپور کی جامعہ مسجدمیں مجلس اتحاد ملت جموں وکشمیر کے زیر اہتمام ‘‘دین سےدوری ۔۔۔۔۔۔اسباب وعلاج ’’کے موضوع پر ایک عظیم الشان سمینار منعقد ہوا جس میں مختلف مکاتب فکر سے وابستہ علماء اور دانشوروں نے شرکت کرکے ملت کی سرخ روئی کیلئے اتحاد کو لازمی قراردیا۔

سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا شریف الحق بخاری امام جمعہ جامع مسجد کریری بارہمولہ نے اتحاد کے حوالے سے کہا کہ ہم سب علماء کا مشن اتحاد کی بنیادوں کو مستحکم کرنا ہے ہم فروعی مسائل میں غرق ہوکر فلاحی کے بجائے تباہی کی طرف گامزن ہیں۔

مصرمیں اخوان المسلمین کے 529 ارکان کو پھانسی سنانے کی طرف  اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر مسلمانوں کی خون ریزی کی وجہ یہ ہے کہ ہم کتاب اللہ پر عمل پیرا نہیں ہیں  انہوں نے کہا کہ اگر ہم قرآن پر عمل کریں گے تو ہمارے جملہ دینی و دنیاوی مسائل حل ہوں گے۔

جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے امیر مولانا محمدعبداللہ وانی نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج  ملت اسلامیہ رفتہ رفتہ دین سے دور ہوتی جا رہی ہے انہوں نے کہا کہ جب انسان کسی چیز کا عادی ہوجاتا ہے تو وہ تمیز کرنے سے بے خبرہو جاتا ہے وہ دینداری اور بے دینی میں فرق نہیں کرسکتا ہم مسلمان ہونے کے باوجود اسلام سے کوسوں دور ہیں ۔

قرآن کی آیات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دین ایک مکمل دستور العمل اور ضابطہ حیات ہے ۔صحیح دیندار وہی ہے جو مکمل طور پر دین کے خطوط پر عمل پیرا ہو ۔ انہوں نے مصر میں 529 اخوان المسلمین کے ممبروں کی پھانسی کی سزا کو امریکی سازش قرار دیکر کہا کہ مسلمانوں کو متحد ہوکر ان سازشوں کو ناکام بنانے کیلئے صف آراء ہونا چاہئے۔

جمعیت اہلحدیث جموں وکشمیر کے صدر مولانا غلام محمد بٹ المدنی نے مصر اور شام کی صورتحال کے حوالے سے سوالیہ انداز میں کہا کہ دونوں ظالم بھی مسلمان ہے اور مظلوم بھی مسلمان ہے  پھر اس جنگ و جدل کی وجہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کے جنگوں کی دو بنیادی اسباب ہوتے ہیں یا تو عقائد پر جنگیں ہوتی ہیں یا مفادات پر ہم مسلمانوں کو عقیدے کی بنیادوں پر جنگ کرنا چاہئے نہ کہ مفادات کی بنیادوں پر۔

لیکن صورتحال اس کے برعکس ہے آج مسلمان مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار ہے اس کی دس بنیادی وجہیں میں نے تلاش کی ہیں جن میں سے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ مسلمان کو جاہل بنایا جارہا ہے اور اس کو اسلام کی صحیح تعلیمات سے دور رکھا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ طاغوتی طاقتیں مسلمانوں کو اسلام سے بے بہرہ کرنے کیلئے منظم تحریکیں چلا رہے ہیں۔ جبکہ مسلمان علماء و زعماء سوئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا اگر ہم متحد ہوکر علماء اسلام و اسلاف کی عزت کرینگے تو ہم راستے سے کبھی نہیں بھٹکیں گے۔

سمینار سے خطاب کرتے ہوئے مولانا عبد الطیف القندی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہمیں رستگار ہونے کیلئے علمائے سوء اور علمائے حق کے درمیان تمیز کرنا چاہئے۔ اسلام کو صحیح تناظر میں سمجھنا چاہئے اور مسائل کے حل کیلئے اس کے سرچشمے کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔

انہوں نے کہاکہ دنیا میں ہماری ذلت کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے پیغمبر اسلام (ص) کے دین کو نہیں اپنایا ہے ہم نے دوسرے ازموں کو اختیار کرکے اپنی  کشتی کو خود ڈبویا ہے ہمیں  دین کے سرچشمے کو تلاش کرکے اپنے رستگاری کے اسباب تلاش کرنے چاہئیں ۔

انجمن شرعی شیعیان جموںوکشمیر کے صدر آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے اپنے خطاب میں کہا کہ آج کے دورمیں انسان اسلامی قدروں سے چشم پوشی کرکے اپنی خواہشات کی تکمیل میں مصروف ہے اور ہماری نوجوان  نسل کی دین سے دوری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ علماء حضرات نے دین کو حرام و حلال کے مسائل تک محدود رکھا ہے۔ وہ اسلام کے آفاقی پیغام سے لوگوں کو واقف نہیں کراتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں تمام مسائل کا حل موجود ہے لیکن ہمارے علماء لوگوں کے مسائل کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑتے ہیں نتیجتاً لوگ اسلام سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔

قرآنی آیات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ  علماء کی رفتار و گفتار بھی لوگوں کی دین سے دوری کی ایک وجہ ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں ایسے حالات پیدا کرنے چاہئے جن سے عقیدہ معاد اور عالم برزخ لوگوں کے دلوں اور ذہنوں میں مضبوط سے مضبوط تر ہوجائے۔ نوجوانوں کے مسائل کی طرف توجہ مبذول کرنے کی ضرورت ہے اور سب سے بڑھ کر مختلف مسالک کے درمیان اتحاد کی بنیادوں کو مضبوط تر کرنے کیلئے کوشاں رہنا چاہئے۔

..............

242

 

لیبلز